کشن گنج، 30/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا پیر کو جیسے ہی مغربی بنگال کے راستے بہار کی سرحد کشن گنج میں داخل ہوئی، کانگریس لیڈروں اور حامیوں کا جوش دیکھ کر راہل گاندھی بھی پرجوش ہو گئے۔ یاترا پیر کی صبح ساڑھے ۱۰؍ بجے کشن گنج پہنچی۔ اس دوران کشن گنج ضلع کی سرحد پر کانگریس کے درجنوں لیڈراور سیکڑوں کارکن ان کے استقبال کیلئے پرچم لئے کھڑے تھے۔ جیسے ہی راہل گاندھی کا قافلہ سرحد پر پہنچا، `’راہل گاندھی زندہ باد‘ کے فلک شگاف نعرے گونج اٹھے۔
راہل نے بھی ہاتھ ہلا کر ہجوم کا جواب دیا۔اس کے بعد نیائے یاترا میں شریک درجنوں گاڑیوں کا قافلہ قومی شاہراہ ۲۷؍ کے راستے بس اسٹینڈ پہنچا۔ اس دوران راہل گاندھی کے ساتھ بہار اور بنگال کے سیکڑوں لیڈر اور کارکنوں کی ایک لمبی ریلی اسٹیڈیم پہنچی۔ راہل گاندھی ۱۱؍بجے اسٹیڈیم میں اسٹیج پر پہنچے۔ انہوںنے اجتماع سے خطاب میں مرکز کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور لوگوں کو نیائے یاترا کے بارے میں بتایا۔ اس دوران انہوں نے سماجی اور معاشی انصاف کا مسئلہ اٹھایا اور ملکی سطح پر ذات پات کی مردم شماری کے مطالبہ کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگوں کو سماجی اور معاشی انصاف نہیں مل رہا ہے۔ اس کے لیے ذات پات کی مردم شماری ضروری ہے تاکہ آبادی کے ہرطبقہ کی تعداد کا پتہ چل سکے اور اسے اس کے حساب سے حقوق مل سکیں۔ اس دوران ہزاروں کارکنان اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ استقبال کرنے والے ہجوم کو دیکھ کر راہل گاندھی نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ اسٹیج پر جے رام رمیش، شکیل احمد، ریاستی صدر اکھلیش پرساد سنگھ، ایم پی ڈاکٹر جاوید آزاد، ایم ایل اے اظہار الحسین، آر جے ڈی ایم ایل اے اظہار اصفی، سابق ایم ایل اے قمرالہدیٰ، مدن موہن جھا، اصغر علی پیٹروغیرہ موجود تھے۔
راہل گاندھی کی نیائےیاترا کا کشن گنج میں گزشتہ کئی دنوں سے انتظار ہورہاتھایہی وجہ ہے کہ اشفاق اللہ خان اسٹیڈیم کے جلسہ گاہ سے سڑک تک انہیں ایک جھلک دیکھنے کیلئے عوام کا ہجوم موجود تھا۔ جس راستے سے ان کی نیائے یاترا کا قافلہ گزرا، لوگ سڑک کے کنارے،چھتوںپر چڑھ کر انہیں دیکھنے کے لئےبے تاب نظر آئے۔